19-04-2024
زبان -
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان منشور

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان

صدر دفتر

پارٹی کے بارے میں

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان: ایم کیوایم سے نکالے جانے الطاف حسین نے 1984 میں اس جماعت کی بنیاد رکھی۔ایم کیو ایم کے قیام سے قبل الطاف حسین کی قیادت میں جامعہ کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی گئی۔ جس نے آگے چل کر ایم کیو ایم کےلئے ایک تحریک بن گئی شروع میں اس کے قیام کا ایک اولین مقصدجامعہ کراچی طالب علموں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ بعد ازاں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اپنے دائرہ کار کو وسعت دے کر اسے صوبہ سندھ کی سیاسی جماعت کا درجہ دے دیا۔ ابتدائی دور میں ایم کیو ایم سے مراد "مہاجر قومی موومنٹ" تھا۔ بعد میں اس جماعت نے خود کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اپنا نام سرکاری طور پر مہاجر قومی موومنٹ سے بدل کر متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا اور اپنے دروازے دوسری زبانیں بولنے والوں کے لیے بھی کھول دیے۔جیسے کہ سندھیوں میں بھی جماعت اپنا ووٹ بینک چاہتی تھی ایم کیوایم نے اپنے ابتدائی سالوں میں ہی کافی مقبولیت حاصل کرلی۔ جماعت کےبننے کے تین سال بعد جب بلدیاتی انتخابات ہوئے تو ایم کیو ایم نے کراچی اور حیدر آباد میں بھاری اکثریت میں سیٹیں جیتں ۔ اس کے کئی امیدوار بلا مقابلہ بھی منتخب ہوئے۔ ایم کیو ایم نے 1988 عام انتخابات میں شہری علاقوں سے 13 نشتیں جیتی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنا لی۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان ایک 59 نقاطی معا‏ہدہ طے پایا ۔ جس میں سیاسی حقوق کی حفاظت، جمہوری نظام کا تسلسل اور اردو بولنے والوں کے حقوق کے تحفظ کے متعلق نقاط شامل تھے۔1989 میں اس معاہدے کی پاسداری نہ ہونے کا الزام لگا کر ایم کیوایم نے پیپلزپارٹی سے اپنی راہیں جدا کرلی۔ 1990 کے عام انتخابات میں ایم کیوایم ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی۔ قومی اسمبلی کی 15 نشتوں کے علاوہ ایم کیوایم نے سندھ میں صوبائی حکومت بنائی۔ اسی دوران ایم کیو ایم کے کچھ ناراض کارکنان نے جماعت سے علیحدگی اختیار کرکے اپنی علیحدہ سے جماعتیں بنالیں۔ جن میں قابل ذکر ایم کیوایم( حقیقی) ہے۔ جس کے بانی آفاق احمد اور عامر کیانی تھے۔ ایم کیوایم پر ایک پرتشدد جماعت ہونے کے الزامات لگائے جاتے رہے تھے۔ انہی الزامات کی بنیاد پر 1992 میں ایم کیو ایم کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی اپریشن کیا گیا۔ جس میں بڑی تعدار میں پارٹی کارکنان جو غیرقانونی سرگرمیوں میں شامل تھے۔ انکو سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے لوگوں کو جان سے ہاتھ دھونے جبکہ کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اسی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی۔ جبکہ ان کو اس وقت پاکستان میں بہت سارے مقدمات کا سامنا تھا۔ اس آپریشن کی بنا پر ایم کیو ایم نے 1993 کےعام انتخابات میں قومی اسمبلی کے عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا جبکہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا۔ اور صوبائی اسمبلی کی 27 نشتوں پر ایم کیو ایم کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اسی دوران ایم کیوایم اس سے علیحدہ ہونے والے دھڑوں اور سندھی قوم پرستوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اورجولائی 1995 تک سینکڑوں لوگوں کوموت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ 1997 کے عام انتخابات کا بھی ایم کیو ایم نےبائیکاٹ کیا ۔ ایم کیو ایم نے 2001 کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ 2002 کےعام انتخابات میں حصہ لیا۔ اور قومی اسمبلی کی 17 نشتیں جیتی۔ ایم کیو ایم نے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی کھل کر حمایت کی اور اسکی حکومت کاحصہ رہے۔ 2008 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کی 25 نشتوں پر کامیابی حاصل کی۔ اور صوبائی اسمبلی کی52 نشتیں جیتی۔2008 سے لیکر 2013 تک ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی میں کئی دفعہ بنی اور کئی دفعہ بگڑی۔ ایم کیو ایم بہت دفعہ حکومت سے الگ ہوکر پھر بھی حکومت کا حصہ رہی۔ 2013 کے عام انتخابات میں ایم کیوایم نے قومی اسمبلی کی 18 نشتیں حاصل کیں۔ جوگزشتہ انتخابات کی نشستوں سے کم تھی ایم کیو ایم اپنے اوپر سے پرتشدد جماعت ہونے کے الزامات کا داغ نہ مٹا سکی جسکی وجہ سے2013 کےبعد بھی پارٹی کافی مشکلات میں گھری رہی پارٹی کےبہت سارے دفاتر پر رینجرزنے چھاپے مارے گئے۔ مختلف کاروائیوں کے دوران بہت سارا اسلحہ بھی برآمد کیاگیا۔ 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں کراچی میں ایم کیوایم فتح نصیب ہوئی۔ اور وسیم اختر میئر کراچی بنے۔ بعدازاں ان کو کرپشن الزامات کی بنیاد پر گرفتار کرلیا گیا۔ وسیم اختر کو بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ جماعت کے لیے مشکلات میں تب اور زیادہ اضافہ ہوگیا۔ جب اگست 2016 میں پارٹی سربراہ الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف نعرے لگوائے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں مظاہروں کا آغاز ہوگیا۔ اور بالآخریہاں جماعت کے سب معتبر لیڈروں نے خود کو پارٹی سربراہ الطاف حسین سے الگ کرلیا۔ اور ایم کیو ایم پاکستان کی بنیاد رکھی۔جسے شروع میں فاروق ستار نے سہار ا دیا لیکن اس وقت اس کے سربراہ خالد مقبول صدیقی ہے۔ ایم کیوایم 2018 میں ایک دفعہ پھر"جاگ مہاجر جاگ" کے نعرے کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے جارہی ہے۔

  • سیاسی حیثیت :
  • 0
  • قومی اسمبلی:
  • 0 / 272
  • صوبائی اسمبلی :
  • 0 / 726 (2013)

پارٹی کی قیادت

الطاف حسین پاکستان کے سیاست دان اور ایم کیو ایم پارٹی کے بانی ہیں. 2015 کے بعد سے، وہ قتل، ہدف قتل، غداری، تشدد کو فروغ دینے اور نفرت سے نفرت کے الزامات پر دہشت گردی کے پاکستان کے پاکستان سے بدتر ہیں.

سید علی رضا

رکن

خواجہ اظہارلحسن

رکن

وسیم اختر

رکن

خالد مقبول صدیقی

رکن

فاروق ستار

رکن

تمام امیدواروں کی فہرست