19-04-2024
زبان -
پاکستان تحریک انصاف منشور

پاکستان تحریک انصاف

صدر دفتر

1st Floor, 72 East, Fortune Plaza (Savour Foods), Jinnah Avenue, Blue Area, Islamabad. Ph: 051-2270744, Fax: 051-2873893 E-mail: [email protected], Website: www.insaf.pk

پارٹی کے بارے میں

پاکستان تحریک انصاف

پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد 1996میں لاہور میں رکھی گئی۔ جس کے سربراہ سابق قومی کرکٹر عمران خان ہیں۔  1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں عمران خان کے علاوہ اس وقت نعیم الحق احسن رشید محمود اعوان، اور نوشیروان بخاری شامل تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کی  سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے 24 جنوری 1999 کو پارٹی کے پارٹی پہلے آئین کی منظوری دی۔

پاکستان تحریک انصاف کو ابتدائی طور پر کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی لیکن پارٹی سربراہ عمران خان    کی جہدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت یہ جماعت عوام خصوصا نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوتی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے  پہلی دفعہ 2002کے انتخابات  میں شرکت کی اور قومی اسمبلی کی صرف ایک نشت حاصل کرسکی جس پر پارٹی کے سربراہ عمران خان میانوالی  سے کامیاب ہوئے۔

پاکستان تحریک انصاف نے 2002 کے ریفرنڈیم میں جنرل پرویز مشرف کی حمایت کی۔ پاکستان تحریک انصاف نے مشرف کی احتساب پالیسی کی  بھی حمایت کی لیکن اس پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے جمہوریت بحالی تحریک کا ساتھ دیا۔ پاکستان تحریک انصاف  نے2007 میں عدلیہ بحالی تحریک میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ عدلیہ بحالی تحریک  میں پاکستان  تحریک انصاف مختلف رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑا۔  

مئی 2006 میں ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں جن میں پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بھی شامل تھی۔ جنہوں نے ایک مسودہ جسے میثاق جمہوریت کانام دیا گیا اس کو منظورکیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ ملک میں آمریت کا راستہ روکنے جمہوریت کے استحکام کے لئے ملک کی دیگر بڑی  جماعتوں کا ساتھ دیا۔ اور مئی 2006 میں تمام بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے" میثاق جمہوریت" پر دستخط کئے۔

2008 میں شفاف الیکشن کاہونا مشکل نظر آرہا تھا۔ جسکی بنیاد پر آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موؤمنٹ جس میں پاکستان تحریک انصاف ،جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن شامل تھیں۔ نے الیکشن2008 کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ بعد میں‎ مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی سے مل کر الیکشن میں حصہ لے لیاجبکہ ‎ پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے انتخابات کے با‏ئیکاٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اکتوبر2011 میں پاکستان تحریک انصاف اس وقت  ایک نئی سیاسی قوت بن کرسامنے آئی جب اس نے لاہور میں مینار پاکستان پر ایک عظیم الشان جلسہ منقعد کیا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اس جلسے میں تقریبا ہرطبقہ فکر کے لوگوں خصوصا نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد   نے شرکت کی۔ اس جلسے کے بعد لوگ جوق در جوق پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے لگے۔‎

2013  کے انتخابات میں پارٹی کےچیئرمین عمران خان نے بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی کی مدد سے حکومت بنائی۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف قومی اسمبلی کی  بھی 28 نشتیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ اور بھرپور طریقے سے اپوزیشن کا کردار ادا کیا ۔

2013 تا 2018 کے دوران اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر حکومتی ناقص پالیسوں پر بھر پور احتجاج کیا۔انتخابات میں دھاندلی کے خلاف اسلام آباد میں مسلسل 126 دن کا تاریخی دھرنا دیا جو کہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہا۔ بعدازاں  کرپشن کے خلاف عالمی شہرت یافتہ اسکینڈل پانامہ لیکس پر ملک بھر پرمیں احتجاج کیا۔اور اس کیس کو عدالت عظمی میں لےجاکر مضبوط اندازمیں یہ کیس لڑا ۔ جس کے نتیجے میں وقت کے وزیر اعظم کو کرپشن الزامات پر نااہل قراد دے کر گھربھیج دیا گیا۔ 

2018 کے انتخابات میں ‎‎ پاکستان تحریک انصاف کوملک کی دیگر بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے لیے ایک مضبوط حریف سمجھا جارہاہے۔

پاکستان تحریک انصاف کےمنشورمیں مندرجہ ذیل بنیادی نکات شامل ہے

  1. سیاسی،معاشی اور غلامانہ ذہنیت سے آزادی
  2. .کرپشن سے پاک خودمختار جدید اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام
  3. ناانصافی سے نجات
  4. سستے اور فوری انصاف کویقینی بنانا
  5. غربت اور بے روزگاری سے نجات
  6. فی کس آمدنی میں 50 فیصد اضافہ
  7. رہائشی گھر اور اس کی مکمل ملکیت
  8. اظہار رائے کی مکمل آزادی
  9. لڑکیوں کیلئے میٹرک تک مفت تعلیم
  10. اقلیتوں کے مساوی حقوق
  11. خواتین کے حقوق کاتحفظ

  • سیاسی حیثیت :
  • Opposition
  • قومی اسمبلی:
  • 34 / 272
  • صوبائی اسمبلی :
  • 93 / 726 (2013)

پارٹی کی قیادت

عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے چئرمین ہیں۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ پاکستان کی 1992 کے ورلڈکپ کی کامیاب ٹیم کے کپتان بھی تھے۔ان کا تعلق میانوالی کے نیازی خاندان سے ہے۔2013کے انتخابات کے بعد آپ کی پارٹی اپوزیشن میں شامل ہوگئی اور حکومت وقت کے خلاف بھر پور اپوزیشن کی۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف عالمی سطح پر مقبول ہونے والے پانامہ کیس کو پاکستان کی عدالت عظمی میں لے جا کر مقبولیت حاصل کی کیونکہ اس کیس میں ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ وقت کے وزیراعظم کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاست کے علاوہ عمران خان سماجی شعبے میں اپنی خدمات کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔

پرویز خٹک

رکن

شفقت محمود

رکن

اسد عمر

رکن

مخدوم شاہ محمود قریشی

رکن

تمام امیدواروں کی فہرست