19-04-2024
زبان -
پاکستان مسلم لیگ۔ ن منشور

پاکستان مسلم لیگ۔ ن

صدر دفتر

PML-N Secretaiat, 20-H, Street# 10, F-8/3, Islamabad. Ph: 051-2852661/62. Fax: 051-2852663

پارٹی کے بارے میں

پاکستان مسلم لیگ ن
پس منظر:
پاکستان مسلم لیگ ن کی بنیاد1992میں اس وقت کے مشہور صنعت کار میا ں محمد شریف کے بیٹے میاں محمد نواز شریف نے رکھی۔ میاں محمد نواز شریف1990میں پاکستان مسلم لیگ کا حصہ تھے اور اسلامی جمہوری اتحاد کے بینر تلے الیکشن جیت کر پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے ملک میں جمہوریت کے فروغ اور استحکام کے لئے اپنی الگ سیاسی پارٹی کی ضرورت محسوس کی چنانچہ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کی بنیاد رکھی اور خود میاں محمد نواز شریف اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ 1993میں صدر غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت بر طرف کر دی۔ جس کے بعد پہلی بار پاکستان مسلم لیگ ن نے الیکشن میں حصہ لیا اورمیاں محمد نواز شریف کی قیادت میں ان انتخابات میں 73 نشستیں اپنے نام کیں اور اس دور حکومت میں اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ 


مسلم لیگ ن نے اصل کامیابی 1997میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کی بر طرفی کے بعد ہونے والے الیکشن میں حاصل کی اور دو تہائی کے قریب قومی اسمبلی کی نشستیں اپنے نام کیں جبکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں میاں محمد نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی میاں محمد شہباز شریف کو وزیر اعلی نامزد کیا۔ اسی سال میاں محمد نواز شریف نے موٹروے جیسے عظیم منصوبے کا افتتاح کیا۔ 

مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب 1998میں اس کے دور حکومت میں ایٹمی دھماکے کیے گئے۔ مسلم لیگ ن کا دعوی ہے کہ انہوں نے عالمی دباو کے باوجود ایٹمی دھماکے کر کہ دراصل خطے میں طاقت کا توازن درست کیا۔ لیکن پرویز مشرف کے دور میں پاکستان مسلم لیگ ن کی صورتحال کافی کمزور دکھائی دی۔ 2000 کے بعد ملک میں پاکستان مسلم لیگ ن کا اثر رسوخ نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ پارٹی کے صدر نواز شریف کوخاندان سمیت جلا وطن کر دیا گیا۔پارٹی قیادت کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ ن 2002کے انتخابات میں صرف15نشستیں حاصل کر پائی۔

2008 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی دیگر پارٹیوں کے ساتھ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا لیکن بعد میں پیپلز پارٹی کی خصوصی درخواست پرمسلم لیگ ن نے انتخابات میں دوبارہ حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا اور68 نشستیں جیت کر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی۔ جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کے میاں محمد شہبازشریف دوبارہ وزیر اعلی منتخب ہوئے اور اس دوران پنجاب میں مسلم لیگ ن کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ۔


2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے126نشستیں حاصل کر کے مرکز اور پنجاب میں ایک بار پھر حکومت قائم کی اور پارٹی کے صدر نواز شریف تیسری بار وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اور ان کے چھوٹے بھائی میاں محمد شہباز شریف نے چوتھیء مرتبہ وزیر اعلی پنجاب کا منصب سنبھالا۔ اپنے اس پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے موٹروے ، سی پیک ، میٹرو بس سروس،فارم ٹو مارکیٹ روڈ،پڑھا لکھا پنجاب،لیپ ٹاپ سکیم ، دا نش سکول جیسے معروف منصوبے متعارف کروائے۔اس کے علاوہ لاہور میں اورنج ٹرین کا سنگ بنیاد رکھا گیاجو کہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ بجلی کی پیداوار کے متعدد منصوبوں کا آغاز بھی مسلم لیگ ن کے کریڈٹ پر ہے


مسلم لیگ ن کی حکومت 2018کے عام انتخابات سے پہلے بننے والی نگران حکومت تک جاری رہی۔ 


:پارٹی عہدیدار
بانی و قائد: میاں محمد نواز شریف
موجودہ صد ر : میاں محمد شہباز شریف
چیئر مین: راجہ ظفر الحق
مرکزی سیکرٹری اطلاعات : مشاہداللہ خان
مرکزی سیکر ٹری خزانہ : پرویز رشید


منشورکے اہم نکات:

  1. نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی
  2. قائداعظم کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق خارجہ پالیسی کا نفاذ
  3. نیشنل ہیلتھ انشورنس سکیم
  4. صحت کے بجٹ میں تین گنا اضافہ
  5. فوری انصاف
  6. ڈیموکریٹک گورننس
  7. کرپشن کا احتساب
  8. دہشت گردی کا خاتمہ
  9. آئین کا نفاذ
  10. نوجوانوں کے لئے ملازمت کے مواقع
  11. بجلی کی فراہمی


وجہ شہرت:
پاکستان مسلم لیگ ن تین دفعہ مرکز اور پانچ دفعہ صوبہ پنجاب میں حکومت بنا چکی ہے۔

:مشہور رہنماء
میاں محمد شہباز شریف
مریم نواز شریف جو کہ میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی ہیں
حمزہ شہباز شریف جو کہ میاں محمد شہباز شریف کے صاحبزادے ہیں
اسحاق ڈار
احسن اقبال
خواجہ محمد آصف
راجہ ظفر الحق
خواجہ سعد رفیق

 

  • سیاسی حیثیت :
  • In Government
  • قومی اسمبلی:
  • 166 / 272
  • صوبائی اسمبلی :
  • 237 / 726 (2013)

پارٹی کی قیادت

نواز شریف
تعارف
میاں محمد نواز شریف (ولادت: 25 دسمبر، 1949ء، لاہور) پاکستان کے سابق وزیر اعظم اورسیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد ہیں ۔ نواز شریف تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار ء2013 تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان پر رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔
نواز شریف ایک درمیانی امیر گھرانے شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ اتفاق گروپ اور شریف گروپ کے بانی میاں محمد شریف ان کے والد اور تین بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف ان کے بھائی ہیں۔
ہسٹری
نواز شریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تجارت کی تعلیم اور 1970ء کی دہائی کے آخر میں سیاست میں داخل ہونے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1981ء میں محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے۔ کچھ حمایتیوں کے سبب، نواز شریف ضیا دور ہی میں، وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، جس پر دوبارہ مارشل لا کے بعد 1988ء میں منتخب ہوئے۔ 1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کی، جس پر فتح ملی اور وزیر اعظم بنے۔

پہلی شریف انتظامیہ کو غلام اسحاق خان کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا، جس پر نواز شریف نے عدالت عظمیٰ پاکستان سے رجوع کیا۔ 15 جون 1993ء کو منصف اعلیٰ نسیم حسن شاہ نے نواز شریف کو بحال کر دیا۔ نواز شریف فروری 1997ء میں بھاری اکثریت سے دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔انہیں اکتوبر 1999ء میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
عدالتی مقدمہ:
فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا، جو ''طیارہ سازش کیس'' کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اغوا اور قتل کے الزامات شامل تھے۔ فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔ 2006ء میں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کیے اور فوج حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 23 اگست، 2007ء کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔
انتخابات 2013ء:
2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بنا پر وہ تیسری بار وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے جبکہ نواز شریف پانامہ کیس کی سماعت کے بعد 28 جولائی 2017ء کو نااہل قرار پائے۔
اہم کام یا کارنامےآمیاں نوازشریف کے پرانے دور میں ۸۲ مئی کو ایٹمی طاقت بنانے کیلئے بین الاقوامی دباو کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے ۔۔۔لاہور اسلام آباد موٹروے بھی انھیں کے دور حکومت میں بنائی۔بجلی کے کئی منصوبے ان کے دور حکومت کا کارنامہ مانے جاتے ہیں

 

اہم کام یا کارنامےآمیاں نوازشریف کے پرانے دور میں ۸۲ مئی کو ایٹمی طاقت بنانے کیلئے بین الاقوامی دباو کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے ۔۔۔لاہور اسلام آباد موٹروے بھی انھیں کے دور حکومت میں بنائی۔بجلی کے کئی منصوبے ان کے دور حکومت کا کارنامہ مانے جاتے ہیں

خوا جہ سعد رفیق

رکن

خواجہ محمد آصف

رکن

احسن اقبال چوہدری

رکن

محمد حمزہ شہباز شریف

رکن

شاہد خاقان عباسی

رکن

مریم نواز شریف

رکن

میاں محمد شہباز شریف

صدر

نمایاں ویڈیوز

تمام امیدواروں کی فہرست